گھر کب آو گے (http://kashifnaseer.co.cc/)

October 3rd, 2010 | صفحہ اول | 193 Comments »

میں نے اپنا بلاگ تبدیل کرلیا تھا اور نئے بلاگ پر مندرجہ ذیل تحاریر قارئین کی منتظر ہیں

بلاگی گلدستہ

  1. گھرکب آؤ گے
  2. کس نے کہا تھا کہ ارکان اسمبلی کی ڈگریاں چیک کریں!
  3. جی کا جانا ٹھہر گیا ہے صبح گیا یا شام گیا
  4. آج اردو کاجنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے
  5. ہمیں منزل نہیں رہنما چاہئے
  6. غامدی صاحب اور تجدد پسندی
  7. تقویٰ کا لباس
  8. خدا کیلئے! ٹانگیں مت کھینچے
  9. فخر عالم کہاں ہے
  10. کل میرے شہر کی انتہا ہو گئی
  11. مصیبتوں نے اس ملک کی راہ دیکھ لی ہے
  12. بھیگے موسم کے رنگ، جامعہ کراچی کے سنگ
  13. امریکی نانی اور جرنل کیانی
  14. کہانی ایک شریف جج کی
  15. زکر انکا جو سید علی کی آغوش میں سر رکھ کے سو جاتے تھے
  16. وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا
  17. کپتان مگراصول پسند بہت ہیں
  18. کیا یورپ کا بوڑھا شیر اسلام سے خوفزدہ ہے
  19. بابا اللہ وسایا
  20. میں کون ہوں
  21. کہتے ہیں عشق جسے وہ خلل ہے دماغ کا
  22. موٹی بھدی رکن اسمبلی
  23. پیش منظر سے پس منظر کا سفر
  24. رانا ثناء اللہ، سلمان تاثیر اور قلعدم تنظیمیں
  25. “کیا مرزائی بے گناہ ہیں” سے متعلق ضروری وضاحت
  26. نحن قادمون ” ہم آرہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “
  27. کراچی کی بلدیاتی تاریخ
  28. کیا مرزائی بے گناہ ہیں
  29. ہنزا کی خطرناک جھیل
  30. صرف بائیکاٹ حل نہیں ہے
  31. ہوا وہی جس کا ڈر تھا
  32. “تلوار اور خون کے گیت” فاطمہ بھٹو
  33. شعلہ عشق سیاہ پوش ہوا تیرے بعد
  34. توانائی کا سنگین بحران
  35. دینی حلئے میں گداگری
  36. اسلام کے نا م پر پاپ کلچر
  37. کھلا تبصرہ
  38. In The Lines Of Fire
  39. مجھے زندگی اچھی لگتی ہے
  40. اللہ سے میرا تعلق
  41. خدا خدا کر کے

New Blog

September 4th, 2010 | صفحہ اول | 341 Comments »

This blog has been shifted to the following new address

http://kashifnaseer.co.cc/

مصیبتوں نے اس ملک کی راہ دیکھ لی ہے

July 30th, 2010 | حالات حاضرہ سے | Comments Off

یوں لگتا ہے کہ مصیبتوں نے اس ملک کی راہ دیکھ لی ہے، ایک سانحہ کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا کہ گویا سانحات کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا. کبھی قدرتی آفات، کبھی ناگہانی حادثات، کبھی انسانیت سوز واقعات، کبھی خودکشیوں کی نت نئی حرکات اور کبھی جنگ جدال و فسادات. اوپر سے مصائب کے پہاڑ ہیں کہ سر ہوتے نہیں اور مشکلات کے انبار ہیں کہ نمٹتے نہیں. لیکن افسوس صد افسوس کہ ارباب اختیار و احبابِ منتظر اقتدار کے مسئلے کل بھی کچھ اور تھے اور آج بھی انکی گوٹھیاں کہیں اور پھنسی ہیں. ہم میں بھی کیا بے حسی کم ہے، ہر طرف نفسا نفسی کا عالم ہے اور ہر ایک اپنے پیٹ اور اپنی کٹیا کے غم میں ہلکان ہوا جارہا ہے. جب تک اپنا آنگن اشکوں سے گیلا نہ ہوجائے ہم دوسروں کے آنسووں کو نہیں سمجھتے اور جب تک خود کسی حادثہ کا شکار نہ ہوں جائیں کسی دوسرے کا درد محسوس نہیں ہوتا. ٹی وی پر بری سے بری خبریں سن کر ہم چینل ایسے بدلتے ہیں جیسے تھوڑی دیر پہلے کسی مووی کا ٹریلر دیکھا ہو. ہاں ہمارے لئے یہ ٹریلر ہی تو ہے کہ علاقہ غیر میں آپریشن ہوا،لوگ مارے گئے، ڈرون سے میزائل برسا لوگ مارے گئے،خود کش بمبار پھٹ پڑا لوگ مارے گئے، ٹارگیٹ کیلرنکل آئے لوگ مارے گئے، کسی نے تعصب کی آگ بھڑکائی لوگ مارے گئے، بارش ہوئی لوگ مارے گئے، سیلاب آیا لوگ مارے گئے، زمین نے ہچکولے لئے، لوگ مارے گئے، بس کھائی میں جاگری لوگ مارے گئے، اور جہاز کریش ہوگیا لوگ مارے گئے، سینے تو وہاں جلتے ہیں جہاں سے جنازے اٹھتے ہیں اور جہاں لوگ جیتے جی مرجاتے ہیں. کل ہم سے کسی نے پوچھا کہ آخر کیوں اور آخر کب تک؟ ہمارے اندر سے بے ساختہ آواز نکلی کہ یقینا ہم سب سے من حیث القوم ایسا کوئی بڑا گناہ سرزد ہوگیا ہے کے یوں رہ رہ کے سزائیں مل رہی ہیں، خدا ہم سب سے سخت ناراض ہے، دہرتی کے بدترین لوگ حکمران بنا کر مسلط کردئے گئے ہیں اور دعائیں آسمان کی دہلیز تک پہنچ کر واپس لوٹ رہی ہیں، توبہ اجتماعی توبہ اور بے لوث قیادت. ہاں نگاہِ مومن کسی خضر راہ کی متلاشی ہے، مگر آج کون اس ڈوپتی کشتی کو پار لگائے گا، مگر آج کون اس بھٹکتی اور منتشر قوم کو نشان راہ دیکھائے گا، اے کاش کوئی ایسا چارہ گر آئے کہ اس پریشان حال خلقت کے دکھوں کا کوئی مداوا ہو، توبہ کی کوئی منادی ہو، تبدیلی کی کوئی صدا ہو اور خوشی کی کوئی گپتا ہو. لیکن کیا صرف چاہنے سے چاہت مل جاتی ہے، گتھیاں سلجھ جاتی ہے اور تن کی پیاس بجھ جاتی ہے. نہیں نہیں اٹھنا تو پڑے گا، بولنا تو پڑے گا، جاگنے اور جگانے کی گیت گانے تو پڑے گے، عقل کی دیب اور دانش کے چراغ جلانے تو پڑیں گے، تئیس سالہ بلال جامعی بھی تو یہی کہتا تھا، اسکا وجود جہاز سے کریش ہوگیا اسکی سوچ تو کریش نہیں ہوئی نہ.

بلال جامعی سے یاد آیا کیا بھلا لڑکا ہوتا تھا، مسکراتا چہرا اور پروقار شخصیت میں چھپی اسکی حساس طبیعت، چہرے پر ہلکی سی مگر پروقار ڈاڑھی اور بات کرنے کا دھیما اور شائستہ انداز. جب ہم ابلاغ عامہ میں وارد ہوئے تو ہر طرف اسکے انداز بیان اور جوہر خطابت کی دھوم سنی، دو ایک دفعہ واجبی سی ملاقات ہوئی اور ایک دفعہ سننے کا بھی اتفاق ہوا. شخصیت ایسی تھی کہ کوئی بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا. تقریر سنی تو اندازہ ہوا صرف آواز میں گرج اور الفاظ میں نفاست ہی نہیں انداز میں تاثیر بھی ہے، خلوص بھی، ملک و ملت کا غم بھی اور کچھ کردکھانے کا عظم بھی. ابھی عمر ہی کیا تھی، بی ایس سال سوم میں پڑھتا تھا اور اسطرح ہم سے دو سال جونیئر تھا لیکن اس کم سنی میں بھی بہت کچھ کرگیا. پہلے جامعہ کی بزم ادب کا جرنل سیکڑری ہوا، پھر بارہ سو امیدواروں میں سے منتخب ہوکر “مجلس شباب” کا رکن اور پھر اسکا شیڈو وزیر اطلاعات. بچوں کے لئے کہانیاں بھی لکھیں اور کچھ شاعری بھی کی. واقفان حال بتاتے ہیں کہ جامعہ سے ایسی اپنائیت اور وابستگی تھی کہ ناصرف نام کے ساتھ جامعی کا تخلص اختیار کیا اور بلال ناصر کے بجائے بلال جامعی کے نام سے مشہور ہوا بلکہ دوستوں کو یہ وصیت بھی کردی کہ مرجاوں تو مادر علمی کی مٹی اوڑھا کر سلادینا. کیا واقعی موت کی باتیں کرنے والا تین بہنوں کا اکلوتا بھائی عین عالم شباب میں اپنے ماں باپ کی خوابوں کو چکنا چور کر کر اس بستی سے کوچ کر گیا ہے! آخر جانے کی کیا جلدی تھی ابھی تو روز جزا کو آنے میں بہت تامل ہے، کچھ دیر اور ٹھر جاتا. لیکن اس عالم فانی میں آمد اور رخصتی کب کسی کے بس میں رہی ہے. یہ تو رب العامین کے فیصلے ہوتے ہیں، انسان سوائے صبر کے اور کر کیا سکتا ہے، اسکی مرضی ہے جلدی بلائے یا بدیر. اسکی مرضی ہے یونہی بلالے یا کوئی اسباب پیدا کر دے، وہ اپنے فیصلوں میں خودمختار ہے.

دو روز سے ابلاغ عامہ کی فضاء سوگوار ہے، ہر خاص و عام کی زبان پر صرف تین بچوں کے تزکرے ہیں. کوئی بلال جامعی کو ڈسکس کررہا تو کسی کی انکھوں میں پیار علی کی جوان موت کا غم ہے اور کوئی فارغ التحصیل طالبہ عائشہ کو یاد کررہا ہے. بلال کے علاوہ پیار علی اور عائشہ بھی ان 152 بدنصیبوں میں شامل تھے جو ائر بلو کی پرواز 202 ED کے ساتھ لقمہ اجل بن گئے. عائشہ آج کل ایک نجی ٹی وی چینل سے وابستہ تھیں، کچھ دن قبل شادی ہوئی اور ابھی ہاتھوں سے حنا کی خوشبو بھی نہیں گئیں تھی. پیار علی صرف ہمارا ہم شعبہ ہی نہیں بلکہ ہم جماعت بھی تھا. فرق صرف یہ تھا کہ وہ اردو سیکشن میں تھا اور ہم انگریزی سیکشن میں ہیں، اکثر سلام دعا ہوتی اور حال احوال کا تبادلہ ہوتا، آج جب وہ اسطرح بچھڑا ہے کہ یقین نہیں آتا.

کہتے ہیں کہ زمین پر ویسے ہی فیصلے اترتے ہیں جیسے اعمال آسمان پر بھیجے جاتے ہیں. جب ریاکاری، جھوٹ، بغض، دغا اور ناانصافی کے ریکارڈ قائم کئے جائیں گے تو اوپر سے کونسے پھول برسیں گے.یہ سزا جو مختلف صورتوں میں ہم من حیث القوم بھگت رہے ہیں میں جو مرتا ہے وہ خلاصی پاتا ہے اور جو بچ جاتا ہے پر آزمائش اور سخت ہوجاتی ہے. کہتے ہیں کہ اس دنیا میں قدرت کی یہ سزائیں انصاف نہیں صبر، شکر اور آزمائش کے اصولوں پر اترتی ہیں. قدرت ٹریلر دیکھاتی کہ سنبھل جاو، توبہ کرلو، لوٹ آو، لوٹ آو. اپنے ڈھنگ کو بدلو اور اپنے مقصد کو پہنچان لو. سو اے کاش کوئی ایسا چارہ گر آئے کہ اس پریشان حال خلقت کے دکھوں کا کوئی مداوا ہو، توبہ کی کوئی منادی ہو، تبدیلی کی کوئی صدا ہو اور خوشی کی کوئی گپتا ہو. لیکن کیا صرف چاہنے سے چاہت مل جاتی ہے، گتھیاں سلجھ جاتی ہے اور تن کی پیاس بجھ جاتی ہے. نہیں نہیں اٹھنا تو پڑے گا، بولنا تو پڑے گا، جاگنے اور جگانے کی گیت گانے تو پڑے گے، عقل کی دیب اور دانش کے چراغ جلانے تو پڑیں گے، تئیس سالہ بلال جامعی بھی تو یہی کہتا تھا، اسکا وجود جہاز سے کریش ہوگیا اسکی سوچ تو کریش نہیں ہوئی نہ.

ہ

نئے بلاگ پر حاضر ہے! بھیگے موسم کے رنگ، جامعہ کراچی کے سنگ اور امریکی نانی اور جرنل کیانی

July 28th, 2010 | صفحہ اول | 284 Comments »


اطلاع برائے تبدیلی مکان

پچھلے کچھ ہفتوں سے اردو بلاگستان میں سی او ڈاٹ سی سی کے اس فری ڈومن اور اس سرور کی فری ہوسٹنگ کا خوب چرچا ہے۔ اس مفت مزے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمارے کئی ساتھی بلاگرز جیسے محمد اسعد، محمد وقار اعظم، سید یاسر جاپانی اور عثمان ورڈ پریس بلاگ سے اپنے ذاتی ڈومن کی طرف ہجرت کرگئے ہیں۔ اس تیزی سے بڑھتے رجہان نے ہمارے اندر بھی پہلے سے موجود ذاتی ڈومن اور ہوسٹنگ کی تحریک کو جو فل حال کسی خرچے کی جھنجھٹ نہ پڑنے کے ارداے کی وجہ سے سے مانند پڑچکی تھی کو دوبارہ زندا کردیا۔ چنانچہ اب ہم بھی مفت خوخوری کی پرانی عادت کو بروئے کار لاتے ہوئےمع اپنے کل ساز و سامان کے مفت کےنئے اور ذاتی گھر پر منتقل ہوچکے ہیں۔ منتقلی کے اس عمل میں محمد وقار اعظم کی تیکنیکی معاونت پر ہم انکے بے حد مشکوراور ممنون ہیں۔

اس نئے مکان میں منتقل ہونے کے بعد ہماری انڑنیٹ پر تمام ہی اردو قارئین سے گزارش ہے کہ اگر وہ کبھی ہم سے ملاقات یا ہماری بے تکی باتیں اور خوامخوا کی بکواس پڑھنے اوربرداشت کرنے کا حوصلے پائیں تو نیچے دئے گئے پتہ پر اپنا ہی گھر سمجھتے ہوئے ضرور تشریف لے آئیں۔ ہم آپ کی خوب تواضع کریں گے۔ نیز اردو بلاگرز اور بلاگ ایگریٹر اردو سیارہ، اردو بلاگرز اور اردو کے سب رنگ سے گزارش ہے کہ رضاکارنہ طور پر اپنے اپنے بلاگ رول میں ہمارے گھر کا ربط درست کرلیں۔

اور آخری خبر یہ ہے کہ ورڈ پریس کا یہ مکان آنے والے چند دنوں میں شکریہ کے ساتھ ہمیشہ کیلئے خالی کردیا جائے گا۔

نئے بلاگ پر دو تازہ مضامین بھیگے موسم کے رنگ، جامعہ کراچی کے سنگ اور امریکی نانی اور جرنل کیانی آپکا انتظار کر رہی ہے

نیا پتہ

http://kashifnaseer.co.cc/


بہترین نتائج کے لئے نوری نستعلیق فونٹ اور فائر فاکس براوزر کا استعمال کریں۔

شکریہ
کاشف
نصیر

smkashif@live.com : ایمیل کریں

نئے بلاگ پر دو تازہ مضامین بھیگے موسم کے رنگ، جامعہ کراچی کے سنگ اور امریکی نانی اور جرنل کیانی آپکا انتظار کر رہی ہے

بھیگے موسم کے رنگ، جامعہ کراچی کے سنگ

July 28th, 2010 | مادر علمی کے رنگ | Comments Off

عروس البلاد کی فضاوں میں جب بھی سانولی گھٹائیں چھاتی ہیں اور رم جھم کے آثار نمودار ہوتے ہیں ہم جہاں کہیں بھی ہوں کسی بے خود پروانے کی مانند مادر علمی کی جانب دوڑ پڑتے ہیں۔ صاحب پڑھنے کیلئے نہیں بھیگے موسم کے رنگ میں رنگنے اور ٹپ ٹپ گرتی ایک ایک پھوار میں چھپی رومانیت کا مزا دوبالا کرنے کیلئے۔ ارے خبردار جو آپ نے ہم پر شک کیا، ہمارا کہیں کوئی ایسا ویسا چکر وکر نہیں ہے وہ تو بس جامعہ کراچی کی بات ہی ایسی ہے کہ برسات میں کھل اٹھتی ہے اور بارش کے دن پورے کراچی میں اس سے خوبصورت جگہ کم از کم ہمیں تو کوئی اور معلوم نہیں ہوتی. دھلی ہوئی بل کھاتی سڑکیں اور ان پر چلتے ایک دوسرے پر پانی اڑاتے من موجی لڑکے اور لڑکیاں، بھیگے ہوئے سر سبز درخت اور ان پر بیٹھے سہمے ہوئے پرندے، اجٹ جھاڑیوں میں اچانک نمودار ہو جانے والی جھومتی گاتی رقص کرتی ہریالی اور ان پر گرتی رم جھم پھوار، پریم گلی اور فارمیسی کی کنٹین جہاں پورا جامعہ امڈ پڑتا ہے، گرم گرم سموسے ٹائپ ٹکیہ، کھٹی میٹی چاٹ اور آوارگی میں مست مخلوق ٹولیاں اور الگ الگ گھومتے بے خوف جوڑے۔اوف مت پوچھئے جامعہ کراچی کے سنگ بھیگے موسم کا جو رنگ وہ کہیں اور نہیں۔

ہمیں جامعہ کراچی میں پڑھتے ہوئے یہ دوسرا سال ہے۔پچھلے برس جب ہمیں جامعہ کے شعبہ ابلاغ عامہ میں داخلہ ملا تو ہماری کفیت دیدنی تھی۔ کئی دن تک تو ہم مارے خوشی کے پھولے نہیں سمارہے تھے۔ صاحب بات ہی ایسی تھی کہ ہمارے مادر علمی میں پڑھنے کا ایک پرانا خواب تھا جو بس پورا ہوا چاہتا تھا۔ پھر کیا تھا جامعہ کی اندھیری اور تاریک کلاسیں، سلور جوبلی سے شعبہ تک روزانہ کی پیدل واک، لفٹ کے لئے ہر ایلے میلے کو ہاتھ دینا، پریم گلی کی چٹ پٹی چاٹ، سائے دار درخت، کتابی اور جھگڑالو حسینائیں، سیمنار لائبریری میں اشاروں کناوں میں گپ شپ، آرٹس لابی کی رنگینیاں، پوانٹ پر سیٹ کے لئے جھگڑے، اساتزہ سے بحث و مباحثے اور آئے دن کی ورکشاپ ہمارے روزانہ کا معمول بن گئے۔

ابتداء میں نئی نویلی دلہن کے مصداق ہمیں جامعہ کی ہر ادائیں بہت سہانی معلوم ہوتی تھیں. پہلا مہینہ دوستیاں اور شناسائیاں بنانے میں گزر گیا اور اگلے دو مہینے میں ہم نے جامعہ کا کونا کونا چھان مارا، کبھی اس شعبہ کبھی اس شعبہ، کبھی یہاں کی چاٹ تو کبھی وہاں کے سموسے. پھر کچھ ٹھراو آیا اور سب یار دوست سمسٹر کی تیاریوں میں ادھر ادھر گروپ کی صورت میں بٹ گئے. پڑھنا پڑھانا تو ہمارا کبھی معمول نہیں رہا اس لئے ہم نے کسی گروپ کو جوائن نہیں کیا۔ پہلا سمسٹر جیسے تیسے اور ہسنتے کھیلتے گزر گیا لیکن دوسرا سمسٹر دہلی کی کسی کٹنی کی طرف ہمارے سر پر نازل ہوا۔ کلاس کے اندر اور باہر کہانی گھر گھر کی ایسی سریل شروع ہوئی کہ مت پوچھیں. دو دو چار چار کی ٹولیاں اور اِسکو کاٹ ’اسکو کاٹ. ہم جو ہمیشہ سے ہر کسی سے بنا کر رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا تھے ایسے کہیں بھی فٹ نہ ہوئے اور اپنے میجر صاحب کے ساتھ غیر جانب دار تحریک میں شامل ہوگئے۔

ہم شعبہ ابلاغ عامہ والے بھی کتنے مظلوم ہیں کہ اچھا خاصہ جامعہ کے قلب آرٹس لابی کے سنگم پر آباد تھے کہ کسی نے اٹھا کر ایک کونے کدھر ے میں پھینک دیا. نئی، شاندار اور ذاتی عمارت کے سنہرا خواب دیکھا کر ظالموں نے ایسا لوٹا کہ مت پوچھئے۔ وہ جو اپنی مشہور زمانہ اپنے بھائی والی فارمیسی ہے ارے وہی جہاں رونق لگی رہتی ہے سے سیدھا چلتے جائیں، جب سناٹا اور ویرانہ خاموشی سے آپکا استقبال کرے تو سمجھ لیں کہ آپ ہم اہلیاں ابلاغ عامہ کی دہلیز پر آن پہنچے ہیں۔ سر اٹھا کر دیکھئے سامنے ڈاکٹر فیروز احمد کے نام سے منسوب ایک دیو ہیکل عمارت آپکو کاٹ کھانے ڈورے گی۔ ارے زرا آرام سے، نظریں نیچے کرکے گاڑیوں کی قطار کے بیچ سے ہوتے ہوئےمرکزی راہ داری سے اندر داخل ہوجائیں۔ خبردار جو داخلی چبوترے پر بیٹھے کسی گم سم جوڑے کی طرف نظر کی۔ اگر گھڑی صبح کے اگیارہ یا شام کے پانچ بجارہی ہو تو آپکو کچھ نہ کچھ خلقت ضرور نظر آئے گی اور ہاں ادھر ادھر گھومتی خاتون طالبات کو دیکھ کر یہ مت سمجھئے گا یہاں کہیں پانی کھڑا ہے، طبیعت کو سکون نہ ملے تو فورا یاد کیجئے گا کہ آپ مستقبل کے میڈیا والوں کے مہمان ہیں.ایک بات جو سب سے اہم ہے کہ اگر آپ کا شعبہ میں قیام کے دوران تازہ دم ہونے یا وضو کرنے کا کوئی ارادہ ہے تو ازراہ احتیاط پانی کی ایک بوتل ساتھ رکھنا مت بھولئے گا کہ استنجاء میں جاکر زحمت نہ اٹھانی پڑے۔ مرکزی حال کے ایک کونے پر عبدل میاں کی کینٹین ہے اور دوسرے کونے پر فوٹو اسٹیٹ والے اور دونوں کے دائیں اور بائیں بل کھاتی سیڑھیاں ہیں جس سے ہوتے آپ بالائی منزل پر پہنچ سکتے ہیں۔

پچھلے برس جب ہم مادر علمی کا حصہ بنے تھے تو ان دنوں محمود غزنوی صاحب ہمارے صدر شعبہ ہوتے تھے۔ صاحب وہی محمود غزنوی جو اسی کی دہائی کے پہلے یا دوسرے سال میں جامعہ کی طلبہ یونین کے صدر منتخب ہوئے اور جن کے انداز خطابات کا سکہ چلتا تھا۔ محمود غزنوی سے یاد آیا کہ انکے ایک دیرینہ دوست اور سابق جماعتی حسین حقانی آج کل امریکہ میں پاکستان کے سفیر بنے بیٹھے ہیں۔ ہمیں ٹھیک سے یاد نہیں آرہا کہ حسین حقانی پہلے صدر ہوئے تھے یا محمود غزنوی البتہ دونوں سابق جماعتی آگے پیچھے صدر طلبہ یونین ہوئے۔ ہمارے والد صاحب نے بھی ان ہی سنہری دنوں میں جامعہ سے ایم اے انگریزی ادب کیا تھا۔ وہ جب موڈ میں ہوتے تھے تو جامعہ میں یونین انتخابات کا انتہائی دلفریب نقشہ کھینچتے کہ پرامن ماحول میں اصل مقابلہ تو جمیعت اور لبرل کا ہوتا لیکن کئی نت نئے مسخرے گروپ بھی ووٹ مانگتے نظر آتے تھےگو انیس سو انہتر میں الطاف حسین صاحب اور انکا محرومی والا نظریہ بھی جامعہ میں وارد ہوچکا تھا لیکن انیس سو چھیاسی تک پورے جامعہ میں کلیہ سائنس کے دو چار لوگوں کے علاوہ کوئی انہیں پوچھتا بھی نہیں تھا۔ لیکن اب حالات بدل چکے ہیں کہ یہاں سالوں سے گورنر سندھ کے منظور نظر ایک حق پرست وائس چانسلر بیٹھے ہیں اور مصیبت یہ ہے کہ صرف بیٹھے ہی ہوئے ہیں۔

آ ہا، بات برسات کے حسین رومانوی رنگ سے شروع ہوئی تھی اور چلتے چلتے شعبہ ابلاغ عامہ کی بھبکیوں سے ہوتے ہوئے سیاست ’ویاست کی طرف جانکلی۔ ارے چھوڑیں اس بھیگے موسم میں شعبہ ابلاغ عامہ اور بے کار سیاست کو اور تیار ہوکر جامعہ کراچی طرف آجائیں۔ پی جی پر کھڑے ہوکر رنگ برنگی چھوکریوں کے پچھوارے میں چٹ پٹی چاٹ کھائیں اور انکی خوش گپیوں سے اپنی سماعت کو معطر کریں، قسم سے مزا آجائے گا۔